You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > قومی غیرت اور ملکی مفاد میں کام کرنا کسے کہتے ہیں ۔۔۔؟ ایوب خان کے دور میں تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت پیش آنے والا یہ واقعہ پڑھ کر آپ بھی جان جائیں گے

قومی غیرت اور ملکی مفاد میں کام کرنا کسے کہتے ہیں ۔۔۔؟ ایوب خان کے دور میں تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت پیش آنے والا یہ واقعہ پڑھ کر آپ بھی جان جائیں گے

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) تربیلا ڈیم کے ٹینڈرز دسمبر 1966 کو کھولے گئے، سب سے کم لاگت کا ٹینڈر259 کروڑ ڈالرز کا تھا اس کے علاوہ 296، 366، اور 384 کروڑ ڈالرز کی لاگت کے ٹینڈرز بھی تھے ۔ ایوب خان کی گورنمنٹ نے سب سے کم لاگت دینے والی کمپنی کو سیلیکٹ کیا

جو کہ ایک اٹالین کمپنی تھی اور اُس کا اشتراک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ تھا لیکن ورلڈ بینک نے اس اٹالین کمپنی کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا ۔ ایوب خان اس سلسلے میں نے متعلقہ وزراء سے میٹنگ کی جس میں وزیر خزانہ محمد شعیب اور سول سرونٹ غلام فاروق کو دو چیزوں کی تصدیق کرنے کو کہا ایک یہ کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس اٹلین کمپنی کی ساکھ کیسی ھے اور دوسری بات یہ کہ کیا گورنمنٹ اپنے پلے سے ڈیم بننے کے لیے مطلوبہ وسائل پورے کر سکتی ہے 48 گھنٹے میں جواب مل گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ اچھی ھے اور گورنمنٹ اپنے ذخائر سے بیرونی فنانس کی کمی کو پورا کر سکتی ھے پھر ورلڈ بینک کو مطلع کیا گیا کہ ہمیں آپ کے قرضے کی ضرورت نہیں ھے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی ہم نے ڈیم کی تعمیر اپنے ذخائر سےشروع کی تھی بعد میں ورلڈ بینک بھی فنانس بھی منصوبے میں شامل ہوا اور مالی مدد دی۔ آج کے ہمارے لیڈرز اُسی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہیں جو اُن کو کمیشن زیادہ دیتی ھے تبھی ایوب خان کے بعد آج تک کوئی بھی لیڈر ایک ڈیم تک نہیں بنا سکا ایوب خان نے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جس کی وجہ سے تمام بڑے بڑے قومی نوعیت کے منصوبے ایوب کے دور میں شروع ہوئے اس کے بعد ہر منصوبہ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی نذر ہو گیا(ش س م)


Top