You are here
Home > پا کستا ن > عائشہ گلالئی کس انتخابی نشان سے الیکشن میں حصہ لیں گی؟ الیکشن کمیشن سے ٹائیگروں کے لیے حیران کن خبر آ گئی

عائشہ گلالئی کس انتخابی نشان سے الیکشن میں حصہ لیں گی؟ الیکشن کمیشن سے ٹائیگروں کے لیے حیران کن خبر آ گئی

اسلام آباد) ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی چیئرپرسن عائشہ گلالئی نے الیکشن کمیشن میں ’’بلے باز ‘‘کے انتخابی نشان کے لیے درخواست دے دی۔ عائشہ گلالئی نے الیکشن کمیشن میں ’’بلے باز ‘‘کے انتخابی نشان کے لیے درخواست جمع کروا دی۔ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی چیئرپرسن عائشہ گلالئی الیکشن کمیشن میں پہنچ گئیں اور درخواست جمع کرائی۔

جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ ایک اور سیاسی جماعت نے شیر اور بلے کے انتخابی نشان کے لئے درخواستیں دائر کردیں۔تفصیلات کے مطابق شیراوربلے کے انتخابی نشان کی خواہشمند ایک اورسیاسی جماعت سامنےآ گئی، شیراور بلے کے انتخابی نشان کے لیے دو، دو سیاسی جماعتوں نے درخواستیں دائر کردیں۔امن ترقی پارٹی نے ٹائر، شیر اور بلے کے نشان کے لیے درخواست دائر کر دی۔دوسری جانب مسلم لیگ ن نے شیر، پی ٹی آئی نے بلے کے نشان کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں، انتخابی نشان کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ پچیس مئی ہے۔اسی طرح دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے روایتی نشانات کے لیے درخواستیں جمع کرائیں گی، جیسا کہ متحدہ قومی موومنٹ (پتنگ)، جماعت اسلامی (ترازو)، عوامی نیشنل پارٹی (لالٹین)، اور جمیعت علمائے اسلام کے لیے کتاب کا انتخابی نشان ماضی کے انتخابات میں جاری کیا جاچکا ہے۔واضح رہے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر سیاسی جماعتوں کی فہرست کے نئے اصول و ضوابط کے تحت صرف 110 جماعتوں کا اندراج ہے۔الیکشن کمیشن کو تاحال 110 میں سے 55 سیاسی جماعتوں نے انتخابی نشان کے لیے درخواستیں دائر کیں ہیں، الیکشن کمیشن نے تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشان کے حصول کے لیے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں۔انتخابی نشان کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 25 مئی ہے۔


Top