You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > گلیات کی خوبصورتی کے پیچھے چھپی شرمناک اور بدصورت کہانیاں : پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقام کے حوالے سے بی بی سی کی ایک چشم کشا رپورٹ ملاحظہ کیجیے

گلیات کی خوبصورتی کے پیچھے چھپی شرمناک اور بدصورت کہانیاں : پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقام کے حوالے سے بی بی سی کی ایک چشم کشا رپورٹ ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)وہ پوری قوت سے بول رہی تھی۔ اُس کے پراعتماد لہجے میں احتجاج بھی تھا، غصہ بھی اور ایک طرح کی اپیل بھی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ جو لوگ باہر سے اِن وادیوں کو دیکھنے آتے ہیں انھیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اِس خوبصورتی کے پیچھے کئی بدصورت

نامور صحافی حسین عسکری اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔ کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ہم بی بی سی اردو کی الیکشن کوریج کے سلسلے میں ہم پنجاب سے خیبر پختونخوا کے علاقے گلیات پہنچے۔ نتھیا گلی سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر توحید آباد نامی گاؤں میں ہماری ملاقات صابرہ وسیم سے ہوئی۔ وہ سنگی نامی غیر سرکاری تنظیم کے پروگرام آواز کے لیے کام کرتی ہیں جس کا مقصد مقامی خواتین کو اُن کے حقوق کا احساس دلانا اور مختلف سماجی معاملات پر آگہی ہے۔توحید آباد میں صابرہ کا ایک چھوٹا سا مرکز ہے جہاں ہماری اُن سے ملاقات ہوئی۔ اِس علاقے میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اُن کا کہنا تھا کہ اِس کی بڑی وجہ مردانہ برتری کا تصور ہے۔ انھوں نے کہا کہ مار پیٹ اور گالی گلوچ کے علاوہ خواتین سے اُن کی جسمانی استطاعت سے زیادہ کام لینا بھی تشدد ہی کے زمرے میں آتا ہے۔’ہماری خواتین ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے پہاڑوں کے درمیان سفر کر کے اپنے گھر کے لیے پانی لاتی ہیں۔ گھر کا چولھا جلانے کے لیے لکڑیوں کے بھاری ڈھیر اٹھا کر لاتی ہیں۔ کیا یہ تشدد نہیں ہے؟’انھوں نے کہا کہ اِس علاقے کے اکثر مرد صبح اٹھ کر کلف لگی شلوار قمیض پہن کر گھر سے نکل جاتے ہیں اور جب شام کو گھر واپس آتے ہیں تو انھیں سب تیار ملتا ہے۔’مرد یہ نہیں سوچتے کہ اگر گھر میں پانی ہے، کھانا تیار ہے اور ضرورت کی ہر چیز موجود ہے تو یہ سب کیسے ہوا،

اِس میں کتنی محنت لگی؟’صابرہ نے کہا کہ انھیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ خاندان ایک گاڑی ہے اور مرد اور عورت اِس کے پہیے ہیں۔ لیکن ایک پہیہ تو پنکچر ہے جس کی وجہ سے سارا بوجھ دوسرے پہیے پر ہے۔صابرہ مردوں کو یہ احساس دلانا چاہتی ہیں کہ خواتین کی بھی شخصیت ہوتی ہے، ضروریات ہوتی ہیں، وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق زندگی میں کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ اُن کے مرکز میں ہماری ملاقات کچھ دیگر خواتین سے بھی ہوئی جنھوں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔یہاں سے چند کلومیٹر دور مکول گاؤں میں عنبرین نامی لڑکی کو ایک گاڑی میں ڈال کر زندہ جلایا گیا تھا۔ یہ واقعہ اِس علاقے میں خواتین پر تشدد کی علامت بن گیا ہے۔ لوگ اِس پر آج بھی بات کرتے ہیں۔ایک اور واقعے میں ایک لڑکی کو قتل کر کے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ خواتین کی ناک کاٹ کر چہرہ بگاڑ دینے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ کئی گھروں میں بیویوں پر تشدد روزمرہ کا معمول ہے۔ صابرہ اِس صورت حال کا ذمہ دار مردانہ برتری والے (پیٹریارکل) معاشرے کو ٹھہراتی ہیں۔یہ خواتین کسی انقلاب کے لیے کام نہیں کر رہیں، نہ ہی اِن کا یہ مطالبہ ہے کہ انھیں وہ آزادیاں میسر ہوں جو یورپی خواتین کو حاصل ہیں۔ گلیات کی خواتین تو صرف یہ چاہتی ہیں کہ مرد ان کی عزت کریں، یہ گھر کے صرف وہی کام کریں جو اِن کی جسمانی طاقت کے لحاظ سے ہوں اور انھیں

اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر ہو۔اِس کے علاوہ مقامی لوگوں کو سیاحوں کے رویے سے بھی شکایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مقامی معیشت کے لیے سیاحوں کی آمد بہت ضروری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سیاح یہاں آتے رہیں لیکن کچھ باتوں کا خیال کریں۔ایک مقامی خاتون نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو سیاح یہاں آتے ہیں انھیں چاہیے کہ مقامی علاقے، ماحول اور کلچر کا احترام کریں۔ یہاں کی خواتین کو شکایت ہے کہ کچھ سیاح کھیتوں اور اپنے گھروں کے سامنے کام کاج کرنے والی خواتین پر آوازے کستے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں اور تصویریں بناتے ہیں۔کچھ مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ سیاح گندگی اور کچرا پھیلاتے ہیں۔ جس چشمے سے خواتین پینے کا پانی نکال رہی ہوتی ہیں وہیں یہ سیاح ہاتھ پیر دھونے لگتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انھیں اپنے گھروں کے آس پاس خالی بوتلیں، جوس کے ڈبے اور ڈائپرز جیسی چیزیں بھی پڑی ہوئی ملتی ہیں۔’سیاح تو حسین نظاروں میں گم ہو جاتے ہیں اور انھیں مقامی لوگوں کے مسائل نظر نہیں آتے۔’میری یہاں ایک مقامی نوجوان عثمان ہزاروی سے بھی ملاقات ہوئی جو یہاں سے میٹرک کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے کراچی چلے گئے تھے اور اب وہیں نوکری کرتے ہیں۔ وہ آج کل چھٹیوں پر اپنے آبائی گھر آئے ہوئے تھے۔ عثمان نےمجھے بتایا کہ بےروزگاری مقامی نوجوانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ‘مجھے اپنے گھر آ کر بہت سکون ملتا ہے لیکن تعلیم اور روزگار کے لیے مجھے یہاں سے جانا پڑا۔’انھوں نے بتایا کہ گلیات میں اکثر بچے سکول کے بعد اپنے گھر والوں کی مالی مدد کے لیے مختلف کام کاج کرتے ہیں۔ کچھ سیاحوں کو نعتیں سناتے ہیں تو بعض بچے گاڑیاں دھوتے ہیں۔میں تقریباً 30 برس کے بعد اِس علاقے میں آیا ہوں۔ پچھلی مرتبہ میں جب یہاں آیا تھا تو ہائی سکول کا طالبِ علم تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں نے ایک مقامی نوجوان سے کہا تھا کہ آپ لوگ کتنے خوبصورت علاقے میں رہتے ہیں تو اُس نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ جب آپ بے روزگار ہوں اور آپ کی جیب اور پیٹ خالی ہو تو یہ خوبصورتی بہت بدصورت لگتی ہے۔(ش۔ز۔م)


Top