You are here
Home > پا کستا ن > پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اعلیٰ عہدیدار کی شامت ۔۔۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونے والے کیس کی سماعت کے دوران حکومتی کارکردگی کا پول کھل گیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اعلیٰ عہدیدار کی شامت ۔۔۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونے والے کیس کی سماعت کے دوران حکومتی کارکردگی کا پول کھل گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ کل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی کی گئی ،قیمتیں کم کرنے کاکوئی فارمولہ ہے؟،عدالت کو آگاہ کریں کیسے قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:‌سزائے موت کے مجرم کو پھانسی دینے سے پہلے جلاد اس کے کان میں کیا کہتا ہے جو کوئی اور نہیں سنتا ؟ ایک خاص صورت میں جلاد کو پھانسی پانے والے شخص کے پیر کیوں پکڑنا پڑ جاتے ہیں ؟ پاکستان کی تاریخ کا بہادر ترین پھانسی کا قیدی کون تھا ؟ ریٹائرڈ جلاد لال مسیح کے انٹرویو سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی بالکل کمی کی گئی ہے ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیا ہے کہ آپ کتنی تنخواہ لے رہے ہیں ،اس پر ایم ڈی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں 37لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہوں ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ افسوس عوامی ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے سے اتنی تنخواہ لے رہے ہیں ؟،آپ کو بنیادی چیزوں کا پتہ نہیں اور تنخواہ 37لاکھ لے رہے ہیں ،آپ ایم ڈی پی ایس او کیسے تعینات ہوئے ؟ ۔شیخ عمران نے کہا کہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ایم ڈی تھا ،پی ایس او میں درخواست دی تھی جس کے بعد تعینات ہو ا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ واپس اسی کمپنی میں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ ، 37 لاکھ تو بہت زیادہ تنخواہ ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حکومت کے پیسہ کمانے کیلئے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ درآمد، کروڈ آئل اور ریفائنری تک پہنچنے میں کیا قیمتیں ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:‌پاکستانی سیاست میں غیر روایتی سیاستدان عمران خان کیا اہمیت رکھتے ہیں ؟ کیا کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں یا وہ بھی ماضی کے حکمرانوں جیسے ہی نکلیں گے ؟ پڑھیے تاریخ اور اعداد و شمار پر مبنی تجزیہ

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کروڈ آئل کو ریفائنری درآمد کرتی ہیں،ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ 22 کمپنیاں ہیں جو پٹرول درآمد کرتی ہیں ۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ 5 ریفائنریز کہاں کہاں موجود ہیں؟ ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ این آر این اور پاکستان ریفائنری کراچی، بائیکو حب بلوچستان میں ہے،پارکو مظفرگڑھ اور اٹک ریفائنری راولپنڈی میں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 15 فیصد مقامی پیداوار ،85 فیصد درآمد کیاجاتا ہے، ضروریات پوری کرنے کیلئے85 فیصد پٹرول درآمد کیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بکواس ہے اتنی بھاری تنخواہ پر بندے بھرتی کیے جاتے ہیں، کیا بیوروکریسی ختم ہو گئی تھی جو نجی شعبے سے بندہ لینا پڑا؟، سب کچھ ملا کر آپ کا پیکج 45 لاکھ تو ہوگا اور تنخواہ 22 گریڈ کے افسر سے کئی گنا زیادہ ہے، آپ ہمیں بنیادی چیزوں پر مطمئن نہیں کر سکے آپ اسی کمپنی میں واپس چلے جائیں۔ ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ 22 کمپنیاں ہیں جو پٹرول درآمد کرتی ہیں، سعودی عرب سے پہلے ادھار تیل ملتا تھا اب نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مڈل مین دونوں اطراف سے منافع اور کمیشن لیتا ہے، اسے رکھا ہی اس لیے جاتا ہے تاکہ مارجن رکھیں، ہمیں باہر سے سستا پٹرول اور خام تیل چاہیے۔(س)


Top