You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > متفرق واقعات > اللہ اکبر ! اگر غلطی سے بھی کسی کو غلط بلڈگروپ کا خون لگادیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟ جان کر آپ بھی سہم جائیں گے

اللہ اکبر ! اگر غلطی سے بھی کسی کو غلط بلڈگروپ کا خون لگادیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟ جان کر آپ بھی سہم جائیں گے

لاہور(ویب ڈیسک)خون تو خون ہوتا ہے ٹھیک ہے ناں؟ انسانی خون میں بنیادی عناصر تو یکساں ہوتے ہیں مگر اس میں کچھ مختلف چیزیں اسے 4 بلڈ گروپس میں تقسیم کرتی ہیں۔ان چاروں بلڈ گروپس کو جو چیز ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے وہ اینٹی جنز ہے یعنی ایسے پروٹین یا کاربوہائیڈریٹ

جو خون میں شامل ہوکر اینٹی باڈیز بنانے کا عمل تیز کرتے ہیں۔تاہم اس وقت کیا ہوگا جب کسی مخصوص بلڈ گروپ کے مالک کو دوسرے گروپ کا خون چڑھا دیا جائے؟اس سے پہلے بلڈ گروپس کے حوالے سے طبی سائنس کے ثابت کردہ حقائق جان لیں۔اگر آپ کا بلڈ گروپ اے ہو تو:اے بلڈ گروپ میں اے اینٹی جنز سرخ خلیات میں ہوتے ہیں جبکہ بی اینٹی باڈیز پلازما میں پائے جاتے ہیں، اگر آپ کے خون کا گروپ اے ہے تو آپ اے اور اے بی خون کے گروپس رکھنے والے افراد کو سرخ خلیات کا عطیہ کرسکتے ہیں۔اگر آپ کے خون کا گروپ بی ہو:بی بلڈ گروپ کے سرخ خلیات میں بی اینٹی جنز اور پلازما میں اے اینٹی باڈیز ہوتے ہیں، ایسے لوگ بی اور اے بی بلڈ گروپ رکھنے والوں کو سرخ خلیات کا عطیہ کرسکتے ہیں۔اگر آپ کا بلڈ گروپ اے بی ہو:اے بی بلڈ گروپ کے سرخ خلیات میں اے اور بی دونوں اینٹی جنز ہوتے ہیں، مگر پلازما میں اے یا بی کوئی اینٹی باڈی نہیں ہوتا، اگر آپ کے خون کا گروپ اے بی پازیٹو ہے تو آپ ہر قسم کا خون لے سکتے ہیں۔اگر آپ کے خون کا گروپ او ہو:اگر آپ کے

خون کا گروپ او ہے تو آپ کے سرخ خلیات میں اے یا بی اینٹی جنز نہیں ہوں گے مگر پلازما میں اے اور بی اینٹی باڈیز ہوتے ہیں، او پازیٹو سب سے عام خون کا گروپ ہے جبکہ او نیگیٹو گروپ رکھنے والے ہر کسی کو خون کے سرخ خلیات کا عطیہ کرسکتے ہیں۔اس کا انحصار اس بات پر کہ کس گروپ کو کونسا خون چڑھ جاتا ہے، درحقیقت اگر وہ مریض اے بی بلڈ گروپ رکھتا ہے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا، تاہم اگر وہ اے، بی یا او ہے تو کافی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس عمل کو hemolytic transfusion reaction بھی کہا جاتا ہے۔خون کی منتقلی میں اس گڑبڑ کے نتیجے میں مریض کا دفاعی نظام عطیہ کردہ خون پر حملہ آور ہوجاتے ہیں، جس کے نتجے میں خلیات کو تباہ کن نقصان پہنچتا ہے، لاتعداد نقصان دہ کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے اور مریض بہت زیادہ بیمار ہوجاتا ہے۔اس گڑبڑ سے گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے، پہلے پیشاب میں خون آتا ہے اور پھر گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔متاثرہ شخص کو شدید فلو جیسے عارضے کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جبکہ موت کا امکان بھی اس وقت بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر علاج نہ کرایا جائے۔(ش۔ز۔م)


Top