You are here
Home > پا کستا ن > اگر آپ بریف کیس ٹیکنالوجی استعمال کریں تو اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر آپ کی پارٹی کا بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔یہ مشورے کون سا سیاستدان اپنی اعلیٰ قیادت کو دے رہا ہے ؟ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

اگر آپ بریف کیس ٹیکنالوجی استعمال کریں تو اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر آپ کی پارٹی کا بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔یہ مشورے کون سا سیاستدان اپنی اعلیٰ قیادت کو دے رہا ہے ؟ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار حامد میر اپنے آج کے کالم میں ایک جگہ لکھتےہیں کہ مجھے بہت افسوس ہوا جب پیپلز پارٹی کی ایک اہم شخصیت نے بڑے دکھ سے یہ بتایا کہ 25جولائی کے بعد تشکیل پانے والے اپوزیشن الائنس کے کچھ رہنمائوں نے
[wpna_ad placement_id=”333645507096937_333645520430269″]
ہمیں کہا کہ اگر آپ بریف کیس ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو کم از کم اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ہمارا آسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں نے اس فرمائش پر شرما کر کہا کہ ہمیں یہ ٹیکنالوجی نہیں آتی تو دوسری جانب سے قہقہے بلند ہوئےجو کوئٹہ تک سنے گئے۔ ان قہقہوں میں یہ پیغام تھا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد کا حصہ تو بن گئی لیکن اس اتحاد کے لئے وہ سب کرنے کے لئے تیار نہیں جو چند ماہ قبل بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کے لئے کیا گیا تھا لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف پنجاب میں وہ کچھ نہیں کررہی جو پہلے مسلم لیگ (ن) کی شہرت ہوا کرتی تھی؟ سیاسی وفاداریاں تبدیل کروا کر حکومت تو بنائی جاسکتی ہے لیکن تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔کیا ہم نئے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کو گڈبائی نہیں کہہ سکتے؟۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو پیر (13 اگست) کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی۔
[wpna_ad placement_id=”333645507096937_333645520430269″]
واضح رہے کہ 7 اگست کو لاہور ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس کی منتقلی سے متعلق نواز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریفرنسز کو احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر سے احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد کے پاس منتقل کردیا تھا۔یہ بھی واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور جرمانے جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنا چکے ہیں۔آج سماعت کے آغاز پر جج محمد ارشد ملک نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی سے استفسار کیا کہ دونوں ریفرنسز میں کارروائی کہاں تک پہنچی؟ سردار مظفر عباسی نے آگاہ کیا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بعد صرف ایک گواہ کا بیان باقی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ریفرنسز میں 3 ملزمان ہیں، نوازشریف کے خلاف کارروائی چل رہی ہے جبکہ ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو احتساب عدالت عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے چکی ہے۔سماعت کے بعد جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کو پیر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔دوسری جانب عدالت نے استغاثہ کو بھی واجد ضیاء کو پیر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔(ش۔ز۔م)
[wpna_ad placement_id=”333645507096937_333645520430269″]


Top