You are here
Home > پا کستا ن > جنگ بدر: 313 صحابہ 1000 سے زائد کفار مکہ پر کس طرح بھاری پڑ گئے؟؟ قرآن پاک اس اہم ترین واقعہ کو کس طرح بیان کرتا ہے ؟ آپ بھی جانیے

جنگ بدر: 313 صحابہ 1000 سے زائد کفار مکہ پر کس طرح بھاری پڑ گئے؟؟ قرآن پاک اس اہم ترین واقعہ کو کس طرح بیان کرتا ہے ؟ آپ بھی جانیے

لاہور(ویب ڈیسک ) جنگ بدر میں نصرت الہیٰ نے بارش کی صورت میں جو تجلی فرمائی جس سے میدان جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا ۔ مسلمانوں کو بہت تھوڑ ے جنگجو اور ساز وسامان ہونے کے باوجود فتح ہوئی اور کفار نے بڑا لشکر ہونے ، ہر طرح کے ساز سامان ہونے

کے باوجود شکست کھائی ۔واقعہ جنگ بدر کاواقعہ کچھ یوں ہے کہ رسول اکر ﷺ تین سو تیرہ صحابہ اکرام کی جماعت کو ہمراہ لے کر مقام بد ر میں تشریف لے گئے اور بدر کے قریب پہنچ کر مدینہ کی جانب والے رُخ “عددۃ الدنیا” پر خیمہ زن ہو گئے اور مشرکین آگے بڑھے تو بدر پہنچ کر مدینہ سے دو ر مکہ کی جانب والے” عدوۃ القصویٰ “پر اُترے اور محاذ جنگ کا نقشہ اس طرح بنا کہ مشرکین اور مسلمان بالکل آمنے سامنے تھے مگر مسلمانوں کا محاذ جنگ اس قدر رییتیلاتھا کہ انسانوں اور گھوڑوں دونوں کے قدم ریت میں دھنسے جارہے تھے اور وہاں چلنا پھرنا دشوار تھا اور مشرکین کا محاذ جنگ بالکل ہموار اور پختہ فرش کی طرح تھا۔غرض کہ دشمن تعداد میں تین گنےسے زیادہ ، سامان جنگ سے پوری طرح مکمل ، رسل و رسائل میں ہر طرح مطمئن تھے ۔ پھر مزید برآں ان کا محاذ جنگ بھی اپنے محل وقوع کے لحاظ سے نہایت عمدہ تھا۔ ان سہولتوں کے علاوہ پانی کے سب کنوئیں بھی دشمنوں ہی قبضہ میں تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو پانی کی بے حد تکلیف تھی ، خود پینے کے لیے کہاں سے پانی لائیں؟ جانوروں کو کیسے سیراب کریں؟ وضو اور غسل کی کیا صورت ہو؟ غرض صحابہ اکرام انتہائی فکر مند و پریشان تھے ۔اس موقع پر شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا کہ اے مسلمانو! تم گمان کرتے ہوکہ تم حق پر ہو اور تم میں اللہ عزوجل کا رسول بھی موجود ہے

اور تم اللہ والے ہو اور حال یہ ہے کہ مشرکین پانی پر قابض ہیں اور تم بغیر وضو و غسل کے نمازیں پڑتھے ہو اور تم اور تمہارے جانور پیاس سے بے تاب ہو رہے ہیں۔اس موقع پر ناگہاں نصرت آسمانی نے اس طرح جلوہ سامانی فرمائی کہ زور دار بارش ہو گئی جس نے مسلمانوں کے لیے ریتیلی زمین کو جما کر پختہ فرش کی طرح ہموار بنا دیا اور نشیب کی وجہ سے حوض نما گڑھوں میں پانی کا ذخیرہ مہیا کر دیا اور دشمنوں کی زمین کو کیچڑ والی دلد ل بنا دیا جس پر کافروں کا چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور مسلمان ان پانی کے ذخیروں کی وجہ سے کنوؤں سے بے نیاز ہوگئے اور مسلمانوں کے دلوں سے شیطانی وسوسہ دور ہو گیا اور لو گ مطمئن ہو گئے ۔قرآن پاک میں جنگ بدرکا ذکراللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس عجیب و غریب بارش کی منظر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ :۔ترجمہ کنزالا یمان :۔ اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کر دے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے ۔اس آیت میں اللہ تعالی نے بد ر میں اس ناگہانی بارش کے چار فائدے بیان فرمائے ہیں:۔ 1۔ تاکہ جو بے وضو اور بے غسل ہوں وہ وضو اور غسل کرکے پاک و صاف اور ستھرے ہو جائیں۔2۔ مسلمانوں کے دلوں سے شیطانی وسوسہ دور ہو جائے۔3۔ مسلمانوں کے دلوں کو ڈھارس مل جائے کہ ہم حق پر ہیں اور اللہ تعالی ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔4۔ محاذجنگ کی ریتیلی زمین اس قابل ہو جائے کہ اس پر قدم جم سکیں الغرض جنگ بدر کی یہ بارش مسلمانوں کے لیے بارانِ رحمت اور کفار کے لیے سامان ِ زحمت بن گئی۔کیٹاگری میں : اسلام، تاریخ اسلام، قرآنی واقعات


Top