You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > اسلامی واقعات > سعودی عرب کی وادی جن ، اس کے کی ناقابل یقین پراسراریت کی حقیقت کیا ہے؟ جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ دیں گے

سعودی عرب کی وادی جن ، اس کے کی ناقابل یقین پراسراریت کی حقیقت کیا ہے؟ جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ دیں گے

جدہ (ویب ڈیسک) مجھے کافی دوستوں کے مسیج آئےتھے کہ آپ سعودی عرب کی وادی جن کے متعلق ضرور بتائیں۔سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ سے شمال مغرب کی جانب35کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مقام وادی جن جنس و نسل کی قید سے آزاد ہر فرد کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے۔

یوں تو عرب کے تپتے صحراؤں میں بچھا ہوا سعو دی عرب ہر مسلما ن کے لئے تاریخی اور مذہبی حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ہر سال یہاں حج و دیگر ایام میں بھی عمرہ کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمانوں کے لئے اپنے مذہبی فرائض کی انجام دہی کے علاوہ پر سراروادی جن کو دیکھنا اور اس کی حقیقت کے بارے میں جاننے کی جستجو اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔وادی جن کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ یہاں آپ اگر اپنی گاڑی کے انجن کو بند کر دیں اور اس کے گیئر کو نیوٹرل پر رکھ دیں تو آپ کی گاڑی خود بخود 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چڑھائی پر چلنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ 14کلو میٹر تک مسلسل جاری رہتا ہے۔میں چونکہ ابھی تک حجاز مقدس گیا نہیں اس لئے مجھے اس کا تجربہ نہیں۔ میں یہاں اس کے متعلق ایک صاحب کا ذاتی تجربہ آپ کو پوسٹ کررہا ہوں۔ جن کا نام عبدالرحمن ہے۔ اور وہ قطر میں جاب کرتے ہیں ۔اور آخر میں آپ کو اس مقام کے متعلق حدیث شریف بھی بتاؤں گا۔ اورایک اور مقام کےمتعلق بھی بتاؤں گا جو کہ تقریبا اس سے ملتا جلتا ہے۔

عبدالرحمن صاحب لکھتے ہیں۔بہت سے دوسرے افراد کی طرح مجھ میں بھی وادی جن کے واقعات کو سن کو اس کوخود سے دیکھنے اور تجربہ کرنے کی لگن پید ا ہوئی۔ وادی جن کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ یہاں آپ اگر اپنی گاڑی کے انجن کو بند کر دیں اور اس کے گیئر کو نیوٹرل پر رکھ دیں تو آپ کی گاڑی خود بخود 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ 14کلو میٹر تک مسلسل جاری رہتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وادی جن میں جہاں پر گاڑی کاانجن بند کر دیا جائے اور اس کے گیئر کو نیوٹرل کردیا جائے وہ ایک چڑھائی ہے یعنی کے گاڑی نیچے سے اوپر کی جانب جاتی ہے اور وہ بھی 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے۔ وادی جن میں اپنی اور اپنے پاس گاڑی کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے بھی اس تجربے کو آزمایا اور ایسا کرنے کے بعد اس وادی سے منسلک واقعات پر یقین رکھنے کے علاوہ میرے پاس بھی کوئی چارہ نہیں رہا۔میرے ذاتی تجربے سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ وادی جن پر آپ اس مخصوص جگہ پر کوئی بھی چیز رکھ دیں جیسے کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے پانی کو بہا یا تو وہ بھی خود بخود اوپر کی طرف بہنے لگ پڑا۔

یہاں وادی جن کے متعلق ایک اور بات بھی آپ کے علم میں لاتا چلوں کہ اگر آپ گاڑی کے انجن کو بند کئے بنا اس کو وہاں سے گزاریں گے تووہ 100کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چلے گی لیکن جب گاڑی کا انجن بند ہو اور اس کا گیئر نیوٹرل پر رکھا جائے تو وہ خود بخود 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 14کلو میٹر کے فاصلے تک چلتی ہے۔وہاں کے مقامی لوگوں میں وادی جن کے حوالے سے مختلف باتیں زد عام ہیں کچھ کے نزدیک یہاں جنا ت رہتے ہیں جو کہ گاڑی یا وہاں پر رکھی کسی بھی چیز کو آگے کی طرف دھکیلتے ہیں اسی لئے اس وادی کو وادی جن کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقام پر ذاتی تجربہ کرنے کے بعد اس سے جڑے واقعات اور اس کی پراسراریت پرمیرا یقین پختہ ہو گیا ہے۔یہ بات مجھے کافی دوستوں نے مسیج میں لکھی ہے۔اور یہ ہی بات میرے کزن نے بھی اپنے ذاتی تجربے سے مجھے بتائی تھی۔کہ ہاں بالکل میں نے بھی گاڑی بند کردی تھی۔اور گاڑی خود بخود 120 کلومیڑ کی رفتار سے دوڑتی رہی۔اب اس کی درست حقیقت سے میں بالکل ناواقف ہوں ۔ ہاں آپ کو اس مقا م کے متعلق

ایک حدیث ضرور بتاتاہوں۔یہ مقام اصل میں وادی جن نہیں بلکہ وادی بیدا ہے۔ اس کا ذکرمسلم شریف کتاب الفتن: باب الخسف بالجیش الزی یوم البیت میں موجود ہےعبیداللہ بن قبطیہ سے مروی ہے کہحارث بن ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے اس لشکر کے متعلق دریافت کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حاکم تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے: “ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لے گا تو ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ لشکر بیدا نامی جگہ پر پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ! جو زبردستی اس لشکر کے ساتھ (مجبور ہو کر) شامل ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “وہ بھی لشکر کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جائے گا مگر روز قیامت اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ابو جعفر فرماتے ہیں “بیدا مدینے کا ایک میدان ہے”اس سے ملتا جلتا ایک اور مقام بھی دنیا میں موجود ہےجس کا نام ہے۔ مونکٹن کینیڈا کی مقناطیسی پہاڑی1930 میں جب سے یہ عجیب و غریب مقام دریافت ہوا ہے تب اس جادوگری کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرف کا رخ کرتی ہے-(جس طرح ہمارے پاکستانی وادی بیدا کا رخ کرتے ہیں)۔ اور اب تک کئی لوگ اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ آیا اس جگہ پر گاڑیاں کس طرح نیچے سے اوپر کی جانب جاتی ہیں۔تو اکثر کا نظریہ ا س کے متعلق یہ ہی کہ اس پہاڑی کی روڈ پر مقناطیسی طاقت موجود ہے جو گاڑیوں کو اپنی طرف نیچے سے اوپر کھینچتی ہے۔ اسی لئے اس کا نام بھی مقناطیسی پہاڑی ہی رکھ دیا گیا ہے۔یقینا اصل راز سےتو اللہ کریم ہی جانتا ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ ایسے ہی یہ دو مقام مشہور نہیں ہوگئے ۔لیکن اصل وجہ کیا ہے۔۔ معلوم نہیں۔


Top