You are here
Home > پا کستا ن > میں نے مولانا مسعود اظہر سے تفتیش کی تھی ، وہ تو اتنا بزدل تھا کہ ایک تھپڑ کھا کر ہی سیدھا ہو گیا اور بولا۔۔۔۔۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی بھارتی ریٹائرڈ سورماؤں کی ایک ناقابل یقین تحریر

میں نے مولانا مسعود اظہر سے تفتیش کی تھی ، وہ تو اتنا بزدل تھا کہ ایک تھپڑ کھا کر ہی سیدھا ہو گیا اور بولا۔۔۔۔۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی بھارتی ریٹائرڈ سورماؤں کی ایک ناقابل یقین تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد نے پاکستان کا کامیاب دورہ کیا ہے‘ تو بھارت کو بہت کچھ یاد آگیا ہے۔ بھارتی میڈیا کا مرکزی رجحان کیا ہے … طنز یا بڑھک؟ کچھ پتا نہیں چلتا۔ انتہائی موقر سمجھے جانے والے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں ان فوجی افسران کی یادداشتیں شائع کی ہیں‘

نامور کالم نگار ایم ابراہیم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جنہوں نے مولانا مسعود اظہر سے تفتیش کی تھی۔ رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل آف سِکّم پولیس اویناش موہنانے کا کہنا ہے کہ مولانا مسعود اظہر تو محض ایک تھپڑ کی مار تھے‘ یعنی ایک فوجی افسر کا زوردار تھپڑ پڑا تو انہوں نے بولنا شروع کردیا! ٹائمز انڈیا سے گفتگو میں اویناش موہنانے نے مزید بتایا کہ تھپّر کھانے کے بعد مولانا مسعود اظہر نے بولنا شروع کیا تو پاکستان کی سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپس کے طریقِ کار کے بارے میں بتاتے چلے گئے۔ اُن کا یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اُس تھپڑ نے جادو کا سا کام کیا‘ یعنی بعد میں تفتیش کے دوران اُن پر ہاتھ اٹھانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی‘ کیونکہ وہ خود ہی بولنا شروع کردیتے تھے! انٹیلی جنس بیورو میں دو عشروں پر مشتمل کیریئر کے دوران اویناش موہنانے ‘کو مولانا مسعود اظہر سے بھی تفتیش کا موقع ملا تھا۔ 1999ء میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ IC-184 کے یرغمال مسافروں کے بدلے مولانا مسعود اظہر کی رہائی بھارتی میڈیا کو اس لیے یاد آئی ہے کہ اُن کے قائم کردہ گروپ جیش محمد پر دوسرے بہت سے حملوں کے ساتھ ساتھ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی قابض فوج کے قافلے پر حملے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس حملے میں 50 فوجی مارے گئے ہیں۔

گڑے مردے اکھاڑنا بھارتی قیادت اور میڈیا دونوں کا پُرانا اور پسندیدہ ترین وتیرہ ہے۔ حالات کا تقاضا خواہ کچھ ہو‘ بھارتی میڈیا جب پاکستان کے حوالے سے خُنّس کا شکار ہوتا ہے تو منطقی و غیر منطقی‘ اخلاقی و غیر اخلاقی تمام حدود بھول جاتا ہے۔ اس وقت بھی بھارتی قیادت اور میڈیا دونوں کی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے۔ دونوں کے سَروں میں پاکستان کو ہدف بناکر تیر چلانے کا سَودا پھر سماگیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ کہیں بھی کچھ بھی ہو رہا ہے تو موردِ الزام پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے۔ ع کوئی تو ہو جو مِری وحشتوں کا ساتھی ہو ۔۔ کے مصداق بھارتی قیادت اور میڈیا ایک دوسرے کو پورے پڑ رہے ہیں۔ بھارت ایک بار پھر انتخابی ماحول کی زد میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ساڑھے چار میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا‘ جس کی بنیاد پر سَر اٹھاکر ووٹرز کے سامنے جایا جاسکے۔ انتہا پسند ہندوؤں کے پاس ووٹ لینے کا صرف ایک طریقہ ہے … مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف فضاء تیار کی جائے اور عام ہندو کے جذبات بھڑکاکر منافرت پر مبنی مینڈیٹ حاصل کیا جائے۔ مودی سرکار نے پوری آئینی مدت باتیں بنانے اور بڑھکیں مارنے میں گزار دی ہے۔

کبھی مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکانے کے لیے گائے کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر انتہا پسند گروپس کو منظم کیا گیا اور کبھی کسی بڑی واردات کا الزام پاکستان پر عائد کرکے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹائی گئی۔ عوام نے یہ تماشا خوب محظوظ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ عام ہندو جذبات کے ریلے میں بہہ جاتا ہے۔ وہ اس بات پر بھی غور نہیں کرتا کہ بھارت کے اپنے مسائل اتنے زیادہ ہیں تو پاکستان کو کیا پڑی ہے کہ مزید مسائل پیدا کرتا پھرے! مودی سرکار نے ساڑھے چار برس کے دوران مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت پروان چڑھانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اب یہ عمل پھر تیز کیا جارہا ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات آرہے ہیں تو لازم ہوگیا ہے کہ ووٹ بینک کو مضبوط کیا جائے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال بھی مودی سرکار کو اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان نے بھارت میں اینٹی پاکستان عنصر کو ایک بار پھر بیدار کردیا ہے۔ پلوامہ میں فوجی قافلے پر حملے میں غیر معمولی جانی نقصان سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کو ایک بار پھر مسلمانوں اور پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل گیا ہے

اور اس بار کیچڑ زیادہ جوش و خروش سے اچھالا جارہا ہے۔ پاکستان کے حق میں ایک بھی لفظ برداشت نہیں کیا جارہا۔ نوجوت سنگھ سِدھو کی مثالی بہت واضح ہے۔ انہوں نے کرتار پور راہداری کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے اور متعدد مواقع پر پاکستان کے لیے انتہائی موافق انداز سے بات کی ہے ‘تاکہ دو طرفہ تعلقات معمول کی طرف آئیں ‘مگر اُن کی میٹھی باتیں کڑوے انتہا پسند ہندوؤں سے برداشت نہیں ہو پارہیں۔ بھارت بھر میں غیرمعمولی مقبولیت کے حامل ٹی وی پروگرام کپل شرما شو سے نوجوت سنگھ سِدھو کو نکال دیا گیا ہے۔ یہ اقدام پلوامہ حملے کے بعد تبصرے میں پاکستان کو حملے کا ذمہ دار قرار دینے سے گریز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کو ایک بار پھر اینٹی پاکستان جذبات کے جال میں پھنسایا جاچکا ہے۔ اب عام انتخابات تک اسی فلم کی نمائش کی جاتی رہے گی۔ خطے کی صورتِ حال کچھ اور کہہ رہی ہے۔ ایک طرف چین تیزی سے ابھر رہا ہے اور دوسری طرف روس نے بھی اپنے آپ کو نئے سِرے سے منوانے کی بھرپور تیاری شروع کردی ہے۔ پاکستان کو پولیٹکل اور اکنامک میک اوور کے مرحلے سے گزارا جارہا ہے۔ ایسے میں بھارت کا حقیقت کا ادراک کرنے کے باوجود ”میں نہ مانوں‘‘ کی روش پر گامزن رہنا محض خرابیاں پیدا کر رہا ہے۔

چند برسوں کے دوران چین اور روس نے پاکستان کو مضبوط کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کے حلق کی ہڈی بن گیا ہے۔ معاملات کو سمجھتے ہوئے چلنے کی بجائے وہ حسد کی آگ میں جل کر ”کھیلوں کا نہ کھیلنے دوں گا‘‘ والی کیفیت پیدا کرنے کے فراق میں ہے۔پاکستان کے حوالے سے حسد میں مبتلا ہوکر بھارتی قیادت اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر رہی ہے کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کو پتھر نہیں مارے جاتے۔ بھارت نے بہت سے شعبوں میں ترقی کی ہے اور یہ سفر جاری ہے۔ اس کے باوجود پڑوسیوں کا استحکام اُسے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ تنگ دِلی اور تنگ نظری ترک کرکے بھارت کو غیر معمولی بڑپّن کا ثبوت دینا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کو مطعون ٹھہرانے کی کوششیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پلوامہ میں فوجی قافلے پر حملے کے حوالے سے پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے بھارت میں بھی کشیدگی کا گراف بلند ہوا ہے۔ ملک بھر میں آباد کشمیریوں کا ناطقہ بند کیا جارہا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف خار کی آڑ میں کہیں کہیں عام مسلمانوں کو بھی پریشان کیا جارہا ہے۔ پلوامہ کے واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کو لتاڑ کر عام ہندو کو ایک بار پھر مسلم مخالف جذبات کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے میڈیا پر دل کے پھپھولے پھوڑنے کی کوشش کو کامیڈی کے کھاتے ہی میں رکھا جاسکتا ہے۔ بھارتی قیادت پاکستان کو ایک تھپّڑ کی مار سمجھتی رہی ہے۔ ایسا سوچنے اور سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ نئی دہلی وہ تھپڑ (اور تپّڑ) کہاں سے لائے گا‘ جو پاکستان کو بھیگی بِلّی بننے پر مجبور کردے! (ش س م)


Top