You are here
Home > انٹر نیشنل > پاکستان بمقابلہ انڈیا : جنگ ہو گی یا نہیں ؟ صف اول کے پاکستانی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں ؟ یہ خبر پڑھیے

پاکستان بمقابلہ انڈیا : جنگ ہو گی یا نہیں ؟ صف اول کے پاکستانی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں ؟ یہ خبر پڑھیے

کراچی (ویب ڈیسک) نجی میڈیا گروپ کے ایک پروگرام میں اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ نیب کو تگڑا ہاتھ ڈالنا چاہیے اگر لوگوں کی ضمانتیں ہوتی رہیں تو پھر آخرکار نیب کی اپنی ضمانت نہیں ہوگی، نیب کا یہ طریقہ غلط ہے کہ پہلے گرفتار کرو پھر تحقیقات کرو،

ان خیالات کا اظہار مظہر عباس ، شہزاد اقبال، بابر ستار، حسن نثار، حفیظ اللہ نیازی، بینظیر شاہ اور ارشاد بھٹی نے جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاکومل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ نیب حکام کا کہنا ہے کہ سراج درانی کو تین دفعہ بلایا گیا تھا وہ پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے جو اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں اس سے کہیں زیادہ ان کے پاس ہیں سراج درانی کی گرفتار ی سے جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔بھارت پر ابھی کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اقوام متحدہ کو بھی انڈیا کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔ جس طرح کا پاگل پن بھارت کی جانب سے نظر آرہا ہے اُن سے کسی طرح کی توقع نہیں رکھ سکتے بدھ کو وہاں ایک پاکستانی قیدی کو بھی مار دیا گیا۔ میزبان ابصا کومل کے پہلے سوال آمدن سے زائد کیس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتارکرلیا گیا، اس حوالے سے بابر ستارکا کہنا تھا کہ گرفتاری کی نیب کو کیوں ضرورت پیش آتی ہے اس پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے۔ کیا نیب نے کوشش کی کہ کسی تحقیقات میں ان کو شامل کیا جائے اور انہوں نے آگے سے انکار کیا اگر نہیں کیا تو اس گرفتاری سے آپ کیا پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں اگر اُن کے خلاف کوئی بھی الزام ہیں اُن کی تحقیقات ضرور کیجئے آپ حراست میں لے لیتے ہیں جب عدالت میں مقدمہ چلتا ہے تو کوئی حقائق نہیں ہوتے جو کیس کو آگے لے کر جائے اس سے مذاق بنتا ہے جس کی وجہ سے آپ کسی صحیح چیز پر بھی ہاتھ ڈالتے ہیں تواُس پر بھی سوالیہ نشان اٹھ جاتے ہیں ۔ جب کہ حفیظ اللہ نیازی اور حسن نثارنے کہا کہ آصف زر دا ر ی کی بات جزوی طور پر درست ہے ۔(ش س م)


Top