You are here
Home > پا کستا ن > کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے 5 بچوں کی ہلاکت کا معاملہ :انہوں نے کھانے میں ایسا کیا کھایا کہ ان کی موت ہو گئی ؟ تہلکہ خیز انکشاف

کراچی میں زہریلا کھانا کھانے سے 5 بچوں کی ہلاکت کا معاملہ :انہوں نے کھانے میں ایسا کیا کھایا کہ ان کی موت ہو گئی ؟ تہلکہ خیز انکشاف

کراچی(ویب ڈیسک)کراچی میں 5 بچوں کے زہریلا کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے کے حوالے سے سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل امجد لغاری نے کہا ہے کہ جس ہوٹل کا کھانا کھانے کے بعد یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اس میں کارروائی کے دوران موجود دیگوں میں پرانی بریانی برآمد ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں 5 بچوں کے زہریلا کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے کے حوالے سے سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل امجد لغاری نے کہا ہے کہ جس ہوٹل کا کھانا کھانے کے بعد یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اس میں کارروائی کے دوران موجود دیگوں میں پرانی بریانی برآمد ہوئی ہے۔ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی امجد لغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس بریانی کے نمونے جمع کر لیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی نے مذکورہ ہوٹل میں کارروائی کرتے ہوئے جو چیزیں دیکھی ہیں ان کی مینٹینس بہتر نہیں ہے۔ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ اس ضمن میں اب تک 15 افراد زیر تفتیش ہیں،ہوٹل کے کچن میں ایگزاسٹ سسٹم نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے تحت اب تک شہر کے 6 ہزار سے زائد ہوٹلوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔سندھ فوڈ اتھارٹی نے ہوٹل کے معائنے کے دوران مزید کئی مضر صحت اشیاء قبضے میں لیں جن میں ہوٹل کے اسٹور روم سے برآمد ہونے والا زائد المعیاد جوس، 3 درجن زائد المعیاد کولڈ ڈرنکس اور کھانوں میں استعمال ہونے والا ناقص تیل بھی شامل ہے۔ڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ہوٹل سے کھانوں کے نمونے اور دیگر شواہد اکھٹے کر لیے ہیں اور اسے عارضی طور پر سیل کر رہے ہیں۔

یاد رہے کراچی کے ایک ہوٹل سے زہریلا کھانا کھا کر ہلاکتوں کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں5 بچے جاں بحق ہوگئے جب کہ ان کی والدہ اور پھوپھو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔کوئٹہ سے آنے والی اس فیملی نے صدر کراچی میں واقع ایک نجی ہوٹل سے کھانا کھایا تھا،جس کے بعد طبیعت خراب ہونے پر انہیں کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔نجی اسپتال میں 5 بچےجانبر نہیں ہو سکے تاہم ان کی والدہ 28سالہ بینا اور پھوپھو زیر علاج ہیں، بچوں کی والدہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ڈیڑھ سال سے 9 سال تک ہیں جن میں ڈیڑھ سالہ عبد العلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سالہ عالیہ، 7 سالہ توحید اور 9 سالہ سلویٰ شامل ہیں۔ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بچوں کی موت کی وجہ فوڈ پوائزننگ لگتی ہے، متاثرہ فیملی نے صدر میں ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ فیملی گزشتہ رات ساڑھے 11 بجے کوئٹہ سے کراچی پہنچی تھی۔جس نے صدر میں ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی نے باہر سے ایک ہوٹل سے گیسٹ ہاؤس میں کھانا منگوایا تھا جبکہ انہوں کوئٹہ سے کراچی آنے سے قبل خضدار میں بھی کھانا کھایا تھا۔


Top