You are here
Home > پا کستا ن > وہ عام بیماری جومردوں اورخواتین میں بانجھ پن کی وجہ بن جاتی ہے

وہ عام بیماری جومردوں اورخواتین میں بانجھ پن کی وجہ بن جاتی ہے

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔اور اب طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس مرد و خواتین دونوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

امریکا میں ہوئی ایک طبی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس سے مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔وہ مرد جو ذیابیطس کا شکار ہیں ان کے اسپرم کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے، جس سے ان کی تعداد کم سے کم ہوتی جاتی ہے اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین میں ذیابیطس کو پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) اور دیگر مسائل سے جوڑا جاتا ہے جو بانجھ پن کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ذیابیطس کے مرض میں جسم کا گلوکوز کو کنڑول کرنے کے عمل متاثر ہوتا ہے، جس کے باعث بچہ دانی میں حمل ٹھہرنے کا عمل مشکل ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کا شکار خواتین میں اسقاط حمل کا خطرہ 30 سے 60 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ذیابطیس کا شکار مرد و خواتین والدین بننے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں البتہ ان کے بچوں میں بھی یہ مرض منتقل ہونے کے 50 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ غذائیت سے بھرپور ڈائیٹ اور اپنے لائف اسٹال میں مثبت تبدیلی اس مسئلے کو حل کرسکتی ہے، جبکہ وزن میں کمی، چینی سے دوری، روزانہ ورزش اور تمباکو نوشی سے دوری اس مشکل کو مزید حل کرسکتی ہے، دوسری جانب سائنس نے دریافت کیا ہے کہ 20 سال کے بعد شادی کرلینا درمیانی عمر میں نیند کا معیار بہتر اور ذہنی تناؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔مینیسوٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے،

شادی کے مختلف فوائد کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آچکے ہیں مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نوجوانی میں شادی کرنا درمیانی عمر میں ذہنی بے چینی، تناؤ سے تحفظ دیتا ہے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کا تعلق خوشگوار اور اچھا ہو۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جلد شادی کرنے سے 37 سال کی عمر میں نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے ورنہ اس عمر میں نیند کا معیار خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد جوڑے کے رویے کافی حد تک مشترک ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی صحت پر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب ذہنی تناؤ کا کم سامنا ہو اور نیند کا معیار اچھا ہو تو جسم کی مشین کام بھی بہتر کرتی ہے جس کا نتیجہ اچھی صحت کی شکل میں نکلتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پرسنل ریلیشن شپ میں شائع ہوئے، تحقیق کے دوران محققین نے 2006 سے 2013 تک امریکا کے خاندانی امور سے متعلق قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور اس کے نتائج نے 28 سے 32 سال کی عمر شادی کے لیے مثالی قرار دیا۔محققین کے خیال میں جلد شادی کرنا اس تعلق کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ اڈھیر عمری میں زندگی بھر کا تعلق بھی کچھ اس قسم کے خطرے کی زد میں ہوتا ہے، یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔مینیسوٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے،


Top