You are here
Home > پا کستا ن > رمضان المبارک میں بیوی کے پاس جانا جائز ہے ؟ مولانا طارق جمیل کیا کہتے ہیں؟

رمضان المبارک میں بیوی کے پاس جانا جائز ہے ؟ مولانا طارق جمیل کیا کہتے ہیں؟

رمضان المبارک میں بیوی کے پاس جانا جائز ہے ؟ اس سوال کے جواب میں مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک بیان میں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو صحابی آیا اور کہا یا رسول اللہ میں تو مارا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا

ہوا کہا میں روزے کی حالت میں بیوی کے پاس چلا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا، تو غلام آزاد کر اس نے کہا میں غریب بندہ کہا سے غلام آزاد کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو روٹی کھیلا اس نے کہا میں خود مسکین ہوں مسکینوں کو کہاں سے روٹی کھیلاونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھروزے رکھ اس نے کہا ایک روزے نے یہ کام کیا ساٹھ رکھونگا تو کیا ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت ہنسے اور فرمایا بیٹھ جاو توڑی دیر گزری تو ایک صحابی آئے یا رسول اللہ یہ صدقہ کیکھجوریں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو بلایا اور فرمایا یہ کھجوریں لے جا اور مدینہ کے ساٹھ غریبوں کو دے دیں وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم مدینہ میں مجھ سے بڑا غریب کوئی نہیں آپ ایسا کرو میرا جرمانہ مجھے ہی حلال کردو جس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہنسے یہاں تک کے آخری دانت نظر آئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاو آپ کا جرمانہ آپ کو حلال کردیا مگر یہ حکم کسی اور کیلئے نہیں ہیں، مولانا طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کچھ کام ایسے اوپر نیچے ہوئے جس کے بعداللہ نے کرم کیا کہ چلو تمہارے لیے رات ساری حلال ہے ہر حلال چیز حلال ہے سحری کے بعد ختم ختم کرے،

اس سے قبل کہا یہ خبر بھی تھی کہ جب قیامت آئے گی تب کیا ہوگا ؟ حضرت عیسیٰؑ فجر کی نماز کے وقت دمشق کی ایک مسجد میں نازل ہونگے، ان کے ہاتھ فرشتوں کے پروں پر ہونگے، نماز کا وقت ہو چکا ہوگا اور مسلمان حضرت مہدی کی امامت میں نماز ادا کرنے کے لئے تیار ہونگے، حضرت مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہیں گے، لیکن اللہ نے یہ فخر امتِ محمدی ﷺ کے لئے رکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک امتی کی حیثیت سے حضرت مہدی کی امامت میں عام مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد کے واقعات میں دجال سے جنگ ہے اور اس کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ امتِ مسلمہ کو لیکر طور پر روانہ ہونگے کیونکہ یاجوج ماجوج کا خروج ہو چکا ہوگا، زمین کا سارا پانی پی جائیں گے لوگ ان سے بھاگیں گے اور پھر جب وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا تو تیر آسمان کی طرف کر کے چلائیں گے جو جب واپس آئیں گے تو خون آلود ہونگے اور یاجوج ماجوج خیال کریں گے کہ انہوں نے آسمانوں پر بھی سب ختم کر دیا۔ پھر وہ مسلمانوں کا محاصرہ کریں گے اور وہ محاصرہ بہت سخت ہوگا، حضرت عیسیٰ اور مسلمان اللہ سے دعا کریں گے اور اللہ دعا قبول فرما کر یاجوج اور ماجوج پر عذاب بھیجیں گے جو کہ کیڑوں کی شکل میں ان کے جسموں میں داخل ہوگا ،


Top