You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > اسلامی واقعات > بیٹی کے قاتل

بیٹی کے قاتل

نبی کریمؐ کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کی شادی اپنے کزن ابوالعاص سے ہوئی۔ ایک موقع پر ابوالعاص نے ان کو اجازت دی کہ اگر آپ چاہیں تو میرے پاس مکہ مکرمہ میں رہیں اور اگر چاہیں تو مدینہ منورہ ہجرت کر جائیں۔ سیدہ زینبؓ نے ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ چنانچہ انہوں نے

اپنے بھائی کنانہ سے کہا کہ تم ان کو مدینہ میں چھوڑ آؤ۔ادھر سے نبی کریمؐ نے بھی صحابہ کرامؓ کو بھیج دیا تھا جو مکہ سے تھوڑے فاصلے پر انتظار میں تھے، چنانچہ سیدہ زینبؓ جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔جب مکہ سے باہر نکلنے لگیں تو کافروں کو پتہ چل گیا۔ ابو سفیان سب سے زیادہ خفا تھا کہ یہ تو قریش مکہ کی بڑی بے عزتی ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبرؐ کی بیٹی دن دہاڑے اتنی جرأت کے ساتھ چلی جائے اور ہم اس کا راستہ نہ روک سکیں، چنانچہ وہ آیا اور کہنے لگا: ہم اس کو جانے نہیں دیں گے۔اس موقع پر ایک نوجوان ھبار بن الاسود بھی موجود تھا جو حضرت زینبؓ کا رشتے میں کزن لگتا تھا۔۔۔ بعض اوقات قریبی رشتہ دار ہی وقت آنے پر زیادہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔۔۔ اس نے آ کر حضرت زینبؓ کی سواری کی ٹانگ پر وار کیا۔ جب اونٹنی پر وار ہوا تو وہ اونٹنی بدکی اور سیدہ زینبؓ نیچے گر پڑیں۔ اس وقت وہ امید سے بھی تھیں۔ نیچے پتھریلی زمین تھی، چنانچہ حمل کی حالت میں اونٹ کی بلندی سے عورت گرے تو کیا ہوتا ہے؟ وہی ہوا کہ بالآخر حمل ضائع ہو گیا، اس قریبی رشتہ دار کی وجہ سے اتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ خیر ابو سفیان نے کہا کہ آج تم ان کو واپس لے جاؤ اور کل چپکے سے اس کو یہاں سے نکال لینا، ہم پھر اس کا راستہ نہیں روکیں گے، بات کرنے والوں کو ہم اتنا تو کہہ دیں گے

کہ ہاں ہم نے ایک مرتبہ ان کا راستہ روکا تھا۔چنانچہ سیدہ زینبؓ کو اسی تکلیف کی حالت میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر کرنا پڑا۔ اس زمانے میں سواری پر اس سفر کے لیے پندرہ دن لگتے تھے۔ سوچیں کہ ایسی تکلیف اور پھر مشقت بھرا سفر۔جب سیدہ زینبؓ مدینہ منورہ پہنچیں تو تکلیف کی وجہ سے ان کی حالت بہت بری ہو چکی تھی۔ نبی کریمؐ نے جب اپنے جگر گوشہ کو اس حالت میں دیکھا تو مبارک آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا کہ میری اس بیٹی کو دین کی خاطر جتنا ستایا گیا اتنا کسی دوسرے کو نہیں ستایا گیا۔اور یہی زخم بالآخر بعد میں وفات کا سبب بھی بنا۔اب سوچئے کہ جو بندہ ایسا زخم لگائے کہ بیٹی کی موت ہی واقع ہو جائے وہ کتنا بڑا دشمن ہوتا ہے! بندے کا بس چلے تو اس کا گلا ہی گھونٹ دے اور اس کی گردن جسم سے جدا کر دے۔۔۔ لیکن ہوا کیا؟ جب مکہ فتح ہوا تو ھبار بن الاسود کو بھی اپنے کیے کا پتہ تھا۔ وہ جدہ کی طرف بھاگا کہ میں کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں۔ راستے میں خیال آیا کہ میں نے جو کیا سو کیا، مگر سنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر تو بہت معاف کرنے والے ہیں چلو آزما ہی لیتا ہوں۔چنانچہ وہ واپس آیا اور آتے ہی نبی کریمؐ کی خدمت میں کہنے لگا: جی آپ مجھے معاف کر دیں۔ میں نے واقعی بہت برا کام کیا تھا۔ میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں۔ اللہ کے پیارے حبیبؐ نے اپنی بیٹی کے اس قاتل کے گناہ کو بھی معاف کردیا۔۔۔ ہم لوگوں کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو معاف نہیں کر سکتے۔ او جی فلاں نے محفل میں یوں کہا! فلاں نے میرے بارے میں یوں کہا! ہم ان کو معاف نہیں کر سکتے اور ایسے شخص کو معاف کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔


Top