You are here
Home > انٹر نیشنل > امریکہ نے اسلامی ممالک کو اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی سمجھ لیا ، اب کن کن اسلامی ممالک سے کس چیز کا کرایہ وصول کیا کرے گا ؟ واشنگٹن سے بڑی بریکنگ نیوز

امریکہ نے اسلامی ممالک کو اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی سمجھ لیا ، اب کن کن اسلامی ممالک سے کس چیز کا کرایہ وصول کیا کرے گا ؟ واشنگٹن سے بڑی بریکنگ نیوز

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی سدر نے اب ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکی انتظامیہ ایسی سوچ رکھتی ہے کہ اتحادی ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کا کرایہ حاصل کیا جانا چاہیے، ایسی سوچ پر ایک اعلیٰ ریٹائرڈ امریکی جنرل نے تشویش

کا اظہار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکیفوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فرینکلن بینجمن بین ہوجزنے کہاکہ وہ اس بات کو محض افواہ خیال کرتے رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادی ملکوں سے اپنے فوجیوں کی تعیناتی کا کرایہ طلب کرنے کو عملی شکل دے سکتی ہے، امریکی جنرل نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو ایک مذاق خیال کرتے آئے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی پالیسی وضع نہیں کرے گی، دوسری جانب یورپی کونسل برائے خارجہ امور نے گزشتہ ماہ ایک رپورٹ شائع کی اور اس میں واضح کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے اتحادی ممالک کو اپنے فوجیوں کی تعیناتی کا کرایہ ادا کرنے کے نوٹس کسی وقت بھی جاری کر سکتے ہیں، ابتداء میں فوجیوں کی تعیناتی کا کرایہ ادا کرنے کی ادھر اٴْدھر کی باتیں اب باضابطہ طور پر خبروں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔بین ہوجز کے مطابق یورپی سیاسی و جغرافیائی صورت حال انتہائی مختلف ہیں اور اس کا امریکا کو احساس کرنا لازمی ہے۔ اٴْدھر صدر ٹرمپ کا بظاہر یہ خیال ہے کہ یورپی براعظم میں امریکی فوجی اٴْس کے اپنے مفاد میں تعینات کیے گئے ہیں، بن ہوجز کا کہنا تھا کہ جرمنی یا اٹلی میں جو امریکی فوجی موجود ہیں وہ مجموعی سکیورٹی کے تحفظ کے تناظر میں تعینات کیے گئے ہیں۔ امریکی جنرل کے مطابق یہ فوجیافریقہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکی مفادات کے نگران ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

بیرون ملک قائم فوجی اڈوں اور وہاں پر تعینات فوجیوں کے اخراجات میں اضافہ کردیا ہے، خلیجی ریاست قطر بھی امریکا کے دو فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے سے قطر کو بھی امریکی فوجی اڈوں کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔عرب ٹی وی کے مطابق قطر میں امریکا کے دو فوجی اڈے قائم ہیں، ایک فوجی اڈہ دارالحکومت دوحہ سے محض 20 کلومیٹر اور دوسرا 30 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ امریکی صدر نے بیرون فوجیوں کے اخراجات میں 50 فی صداضافے کا فیصلہ کیا اور یہ رقم میزبان ممالک کی طرف سے ادا کی جائے گی، صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی اڈوں کے میزبان ممالک سے شکایت کی تھی کہ وہ اپنے ہاں تعینات امریکی فوجیوں کے اخراجات اور اڈوں کی قیمت ادا نہیںکررہے ہیں۔ ماضی میں ان اڈوں کا امریکا کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکا۔وائیٹ ہائوس کی ہدایت پر امریکی انتظامیہ نے جرمنی، جاپان اور امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے دوسرے تمام ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں تعینات امریکی فوج کے 50 فی صد اخراجات پورے کریں، امریکی حکومت نے اپنے اس مطالبے کے متعلق میزبان ممالک کو مطلع کردیا ہے۔اس طرح بعض حالات میں امریکا فوجی کی میزبانی کرنے والے ممالک سے موجودہ دائیگیوں کی نسبت 5 سے 6 گن تک قیمت مانگے گا۔امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان بھی امریکی فوج کے اخراجات میں اضافے کے حوالے سےمذاکرات کی تیاری کی گئی تھی۔ جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی تعداد 28 ہزار ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے جنوبی کوریا میں متعین فوجیوں کے اخراجات میں 50 فی صد اضافے کی ایک سمری جنوبی کوریا کو بھیجی تھی۔


Top