You are here
Home > پا کستا ن > اصلی اور نسلی لوگوں کی باتیں : وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد کل اوکاڑہ کے ایک نواحی علاقے میں کیا باتیں کرتے دیکھے گئے ؟ جان کر آپ انہیں سیلیوٹ کریں گے

اصلی اور نسلی لوگوں کی باتیں : وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد کل اوکاڑہ کے ایک نواحی علاقے میں کیا باتیں کرتے دیکھے گئے ؟ جان کر آپ انہیں سیلیوٹ کریں گے

اوکاڑہ(ویب ڈیسک) اوکاڑہ کے نواحی علاقہ ستگھرہ میں بلوچ کمانڈر میر چاکر اعظم رند کی یاد میں جشن چاکر اعظم کی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجا ب کے والد نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق بر صغیر پاک وہند کی فاتح اور جنگجو کمانڈر میر چاکر اعظم رند کی یاد میں جشن چاکر اعظم کے

نام سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان بھرسے بلوچ سیاسی لیڈران سمیت وزیر اعلیٰ پنجا ب کے والد سردار فتح اللہ خان بز دار نے خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ تحریک انصاف کے راہنما چودھری عبداللہ طاہر بھی موجود تھے۔ چودھری عبداللہ طاہرنے ان کی آمد پر اوکاڑہ ٹول پلازہ پر خوش آمدید کہا۔ یہاں سے ایک جلوس کی شکل میں ان کو ستگھرہ میر چاکر اعظم کے مقبرہ پر لایا گیا۔ جہاں ان کے اعزاز میں کبڈی ، بیل دوڑ اور خصوصی طور پر بلوچی رقص پیش کیا گیا اور میر چاکر اعظم کی بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ بعدا زاں سردار فتح اللہ خان بزدار نے تحریک انصاف کے رہنما چودھری عبداللہ طاہر کے ہمراہ اوکاڑہ کی عظیم پناہ گاہ کا دورہ کیا۔ سردار فتح اللہ خان بزدار نے اس پناہ گاہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چودھری عبداللہ طاہر جیسے لوگ ہی ہمارے ماتھے کاجھومر ہیں جن کی وجہ سے غریب اور نادار لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور ایسے خداترس لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے میں دعا گو ہوں کہ اوکاڑہ کو چودھری عبداللہ طاہر جیسی شخصیات میسر آتی رہیں۔ میر چاکر رند یا چاکر اعظم صرف ایک نام یا ایک شخصیت نہیں بلکہ بلوچوں کی تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدن، معیشت و معاشرت، اخلاق و عادات، بہادری و جوانمردی، جوش و جذبہ، گفتار و کردار، ایثار قربانی، ایفاۓ عہد اور انتقام کا نام ھے۔ بقول میر چاکر “مرد کا قول اسکے سر کے ساتھ بندھا ھے” اور میرچاکر اپنے قول کا دھنی تھا اپنے قول کے مطابق ایک مالدار عورت “گوھر” کو امان دی اور اس کی حفاظت کے لۓ جان کی بازی لگا دی اور اپنے ہی بھائیوں لاشاریوں سے جنگ کی جو تیس سالہ کشت و خون میں بدل گئی اور یہی جنگ کئی نامور رند اور لاشاریوں کو خاک و خون میں نہلا گئی جن میں میر چاکر کے دو نوجوان بھائیوں کے علاوہ میرھان، ھمل، جاڑو، چناور، ھلیر، سپر،جیند، بیبگر، پیرو شاہ اور دیگر سینکڑوں بہادر بلوچ شامل تھے بلوچوں کی معاشرتی زندگی میں وعدہ خلافی کے علاوہ جھوٹ بولنا معیوب سمجھا جاتا ھے خاص کر اگر وہ رند بلوچ ھو بقول چاکر خان رند کے”سچ بولنا بلوچوں کا شیوہ ھے اور جھوٹ ایمان کی کمزوری کی نشانی ھے”


Top