You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > ” شوہر کی غیرت “

” شوہر کی غیرت “

ایک عورت مکمل پردے کے عالم میں قاضی کے سامنے کھڑی تھی. اس نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا. مقدمے کی نوعیت بڑی عجیب تھی کہ میرے شوہر کے ذمہ مہر کی 500 دینار رقم واجب الاداء ہے وہ ادا نہیں کر رہا.لہذا مجھے مہر کی رقم دلائی جائے..

قاضی نے خاوند سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا. عدالت نے عورت سے گواہ طلب کیے.. عورت نے چند گواہ عدالت میں پیش کر دیے۔گواہوں نے کہا:” ہم اس عورت کا چہرہدیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ واقعی وہ عورت ہے جس کی گواہی دینے ہم آئے ہیں. لہذا عورت کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے۔” عدالت نے حکم دیا کہ عورت اپنے چہرے سے نقاب اتارے تاکہ گواہ شناخت کر سکیں.ادھر عورت تذبذب کا شکار تھی کہ وہ نقاب اتارے یا نہیں۔۔۔گواہ اپنے موقف پر مصر تھے۔ اچانک اس کے شوہر نے غیرت میں آکر کہا” مجھے قطعاََ یہ برداشت نہیں کہ کوئی غیر محرم میری بیوی کا چہرہ دیکھے… لہذا گواہوں کو چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہیں .. واقعی اس کے مہر کی رقم میرے ذمہ واجب الاداء ہے…۔ عدالت ابھی فیصلہ دینے والی ہی تھی کہ وہ عورت بول اٹھی..!!۔ “اگر میرا شوہر کسی کو میرا چہرہ دکھلانا برداشت نہیں کرتا تو میں بھی اسکی توہین برداشت نہیں کر سکتی. میں اپنا مہر معاف کرتی ہوں. میں غلطی پر تھی جو ایسے شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا..”۔دوسری جانب ایک عورت کی عمر بہت زیادہ ہوچکی تھی نخریلی اور کام چور عورت تھی انہی اوصاف کی وجہ سے جلدی کوئی اس کے رشتے کی حامی نہیں بھرتا تھا اس کی شکل بھی۔۔۔۔۔جاری ہے۔ بدصورت اور بے ہنگم تھی کام کاج نہ کرنے کی وجہ سے اس کا وجود بے ڈول اور بھرا ہوچکا تھا خدو خال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی الٹی آنکھ اور چہرے پر پڑا سا گوشت ابھرا ہوا تھا لہندا اس بے چارہ کو لوگ پہلی نظر میں ہی دیکھ کر بھاگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے رشتہ داروں نے کافی بھاگ دوڑ کرکے کہیں سے ایک اندھے شخص کو تلاش کیا تاکہ اس عورت کی بدصورتی پر پردپ پڑا رہ جائے اس عورت کے رشتہ داروں نے اندھے شخص سے کہا ایک بہت خوبصورت اور مال دار لڑکی کا رشتہ ہے اگر تم چاہو تو ہم تہمارا رشتہ اس کے گھر بھیجیں اندھے بہچارے کو اس کے اندھے ہونے کی وجہ سے کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔جاری ہے۔ اس نے جھٹ سے حامی بھر لی اور اس طرح باآخر شادی ہوگی شادی کے بعد عورت اپنے اندھے شوپر کے آگے ناز نخرے کرنے لگی اور احسان جتاتے ہوئے اس سے کہنے لگی میرے بہت سے گھروں سے رشتے آئے لیکن میں نے کہیں شادی نہیں کی معلوم نہیں تو نے ایسا کون سا مجھ پر جادو کردیا یا دعا کی کہ جس کی وجہ سے تیرا رشتہ آتے ہی میری زبان بند ہوگی جیسے تالہ لگ گیا ہو اور میںتیرے رشتے کے آگے انکار نہ کرسکی اندھا کچھ عرصہ تک اپنی بیوی کے ناز نخرے برداشت کرتا تہا اور آخر کار اس کی قوت برداشت جواب دے گئی۔


Top