You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > فرشتے انسان کے گناہ اور ثواب کیسے نوٹ کرتے ہیں؟

فرشتے انسان کے گناہ اور ثواب کیسے نوٹ کرتے ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسان اشرف ا لمخلوقات ہے اور اس میں جستجو کی خواہش ہمیشہ سے ہے جو باتیں قرآن مجید میں صدیوں پہلے بتا دی گئی آج جدید سائنسی دنیا تحقیق سے ان کو تسلیم کرچکی ہے۔قرآن شعور ا آگہی کے مسلسل سفر میں کسی طرح حائل نہیں ہوتا بلکہ مظاہرہ کائنات کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے ۔فرانسیسی پروفیسر کا کہنا ہے کہ تخلیق کائنات کے بارے میں آج تک جتنے بھی قابل فہم نظریات دنیا میں رائج ہیںوہ سب قرآن مجید کے بیان کئے گئے نظریہ کے عین مطابق ہیں۔پروفیسر بوکائلے نے اپنی کتاب’’ بائبل،قرآن اور سائنس‘‘ میں کہا ہے کہ قرآن میں ایسی باتیں موجود ہیں اور جو اس کے نزول کے وقت دستیاب نہیں تھیں اور کچھ ایسے پہلو بھی شامل ہیں جو طلوع اسلام کے وقت عوام کے تصورات کے منافی تھے ۔جیسے کہ قیامت کے روز اعمال کا ریکارڈ کیسے دیا جائے گا ؟یا کون یہ لکھ رہا ہے تو سوچنے کے بعد آج انسان نے بے شمار ترقی کر لی ہے اور آج انسان ہر چیز کی ریکارڈنگ کر سکتا ہے اور ضرورت پڑھنے پر اس کو سنا اور دیکھا جا سکتا ہے تو دنیا کا خالق و مالک وہ اتنا قادر نہیں کے قیامت کے روز انسان کو اس کے اعمال کی کیسٹ سنا سکے جو دنیا میں ہمارے کاندوں پر بیٹھے ہمارے اعمال کی ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔دوسری جانب انس وجن کی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن (فرشتوں کی شکل میں) اولاد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! بلکہ (فرشتے تو اللہ کے) بندے ہیں، جنہیں عزت بخشی گئی ہے۔ وہ اُس سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے، اور وہ اُسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
(سورۃ الانبیاء ۲۶ و ۲۷) قرآن وحدیث میں یہ بات بار بار ذکر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مٹی سے، جنات کو آگ سے اور فرشتوں کو نور سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ جو کام اُن کے ذمہ کیا گیا ہے وہ اُسی میں لگے رہتے ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے: اُس (جہنم) پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے کسی حکم میں اُس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا اُنہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (سورۃ التحریم ۶) فرشتوں کو خالق کائنات نے ایسا بنایا ہے کہ وہ نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الذاریات (آیت ۲۴ سے ۲۷) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے مہمانوں کا تذکرہ کیا ہے جو کھانا نہیں کھارہے تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُن پر شک وشبہ ہوا۔ بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہ تو فرشتے ہیں اور فرشتوں کی فطرت میں کھانا پینا نہیں ہے۔ اسی طرح فرشتے نہ مرد ہوتے ہیں نہ عورت۔ سورۃ الصافات (آیت ۱۴۹ سے ۱۵۱) میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے عقیدہ کی تردید کی ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔


Top