You are here
Home > پا کستا ن > بریکنگ نیوز:عثمان بزدار کی چھٹی۔۔۔نیا وزیر اعلیٰ پنجاب کسے بنایا جانے والا ہے؟ دنگ کر ڈالنے والی خبر آ گئی

بریکنگ نیوز:عثمان بزدار کی چھٹی۔۔۔نیا وزیر اعلیٰ پنجاب کسے بنایا جانے والا ہے؟ دنگ کر ڈالنے والی خبر آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی تبدیلی اور پنجاب کے سیاسی منظر نامے میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تبدیلی کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اُمیدواروں کی قطار میں کون کون ہے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے

پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی نصر اللہ ملک نے بتا دیا۔ نصر اللہ ملک کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار بھلے مانس انسان ہیں لیکن وہ رکھ رکھاؤ والے آدمی ہیں۔ پنجاب میں گورننس لانے اور اپنے دعووں کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اُس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار پارٹی کے پرانے کارکن نہیں ہیں، وہ ابھی شامل ہوئے تھے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ ان کے ہاتھ میں آگئی۔ حال ہی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کی وجہ سے انہیں پارٹی میں بھی وہ مقام نہیں دیا جاتا جو پرانے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کی اتنی اہلیت نہیں تھی کہ انہیں اتنے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ اس حوالے سے انہیں پارٹی کے اندر بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی حلقوں کا ماننا ہے کہ پنجاب میں کم از کم شہباز شریف کی ٹکر کے کسی بندے کو وزیراعلیٰ بنایا جائے تاکہ اگر شہباز شریف کے دور سے زیادہ نہیں تو کم از کم ان کے برابر کی ترقی کی جائے اور گورننس کے معاملے پر بھی زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ نصر اللہ ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ اگر عثمان بزدار کو تبدیل کیا جائے تو کوئی ایسا نام سامنے لایا جائے جس پر اتفاق رائے ہو سکے۔ اور وہ ایسا فرد بھی ہو جس کا پارٹی سے دیرینہ

تعلق بھی ہو۔ اگر کسی ایسے شخص کو لایا جائے جو پارٹی میں ابھی شامل ہوا ہو لیکن اس کی پنجاب میں گرفت ہو تو اس صورت میں بھی پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت کچھ نام زیر گردش ہیں جن پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے اُمیدواروں میں میاں اسلم اقبال کا نام بھی آ رہا ہے جو پنجاب سے پارٹی کے پُرانے رکن اسمبلی ہیں۔ ہاشم بخت ، جن کا تعلق رحیم یار خان سے ہے، کا نام بھی زیر گردش رہا۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بھائی بھی وفاقی وزیر ہیں۔ اُن پر بھی پارٹی کا یہی اعتراض ہے کہ وہ پارٹیاں بدلتے رہے ہیں۔ اگرچہ جنوبی پنجاب کی عوام سے جو وعدہ کیا گیا ۔ اُن کو بھی آگے لایا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ راجہ یاسر ہمایوں، جن کا تعلق چکوال سے ہے، کو اس حوالے سے اس لیے پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ پارٹی کے کارکن ہیں۔ پارٹی کے ساتھ ان کی وفاداری دیرینہ ہے۔ لیکن میاں اسلم اقبال کے حوالے سے زیادہ باتیں زیر گردش ہیں کیونکہ ان کو کافی حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت دو مسئلوں کا سامنا ہے ، ایک تو اُمیدوار کا انتخاب اور دوسرا اُس کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا۔پی ٹی آئی کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ اگر پارٹی نیک قائد ایوان کو لے بھی آئے تو اعتماد کا ووٹ کیسے حاصل کیا جائے گا۔


Top