You are here
Home > پا کستا ن > ایک دفعہ جبرائیلؑ نبیؐ سے ملنے کے لیے آئے، اس وقت جبرائیلؑ کانپ رہے تھے۔۔۔ پڑھیئے ایک ایمان تازہ کردینے والی تحریر

ایک دفعہ جبرائیلؑ نبیؐ سے ملنے کے لیے آئے، اس وقت جبرائیلؑ کانپ رہے تھے۔۔۔ پڑھیئے ایک ایمان تازہ کردینے والی تحریر

ایک دفعہ جبرائیلؑ نبیؐ سے ملنے کے لیے آئے، اس وقت جبرائیلؑ کانپ رہے تھے، رو رہے تھے، غلافہ کعبہ کے پاس گئے اور پھر اسے پکڑ کر انہوں نے دعا مانگی: ’’میرے اللہ! میرے سردار! میرے نام کو نہ بدلنا اور میرے جسم کو نہ بدلنا‘‘نبی کریمؐ نے پوچھا: جبرائیل! آج آپ نے

یہ کیا دعا مانگی؟ جواب میں جبرائیلؑ کہنے لگے:’’اے اللہ کے نبیؐ! جب سے ہم نے شیطان کو دھتکارے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت سے دل پر اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف ہے کہ میں یہ دعا مانگتا ہوں: اے اللہ شیطانکا نام عزازیل تھا اور آج ابلیس کہتے ہیں، اے اللہ! تو نے اس کا نام بدل دیا، پھر اسے اطاعت اور فرمانبردار لوگوں کے زمرے سے نکال کر اسے نافرمانوں کے زمرے میں شامل کر دیا (لہٰذا اب میں یہ دعا مانگتا ہوں کہ) اے اللہ!میرا نام نہ بدلنا اور میرے جسم کو فرمانبرداروں کے زمرے سے نکال کر کہیں نافرمانوں میں شامل نہ کردینا۔‘‘ہم بھی اللہ رب العزت سے دعا مانگیں: اے کریم آقا! آپ کا در پکڑا ہے، آپ مہربانی فرما دیجئے، ہماری حاضری کو قبول کر لیجئے۔ دوسری جانب معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک بار اللہ رب العزت نے حضرت جبرائیل ؑ سے کہا کہ ذرا جنت میں جائو۔ حضرت جبرائیل ؑ جنت میں گئے تو نور کی ایک چمک اٹھی اور جبرائیل ؑ دھڑام سے نیچے گر گئے۔ اتنا نور تھا کہ جبرائیلؑ جیسا اتنا بڑا فرشتہ سجدے میں گر گیااور کہنے لگا کہ اللہ کا نور نظر آ گیا، اس کی ایک جھلک دیکھ لی۔ سجدے میں گئےتو آواز آئی کہ اے وحی کو اٹھانے والے سر اٹھا،جب لڑکی نے سر اٹھایاتو ایک لڑکی مسکرا رہی تھی۔ اس کےچہرے اور دانتوں سے نور پھوٹ رہا تھا۔ حضرت جبرائیل ؑ سمجھے کہ اللہ کے نور کی تجلیاں ہیں۔ حضرت جبرائیل ؑ حیران ہو کر کہنے لگے کہ’’ سبحان الخالق، قربان جائوں اس کے بنانے والے پر،‘ بنانے والے پر،‘‘ اللہ خود کتنا حسین ہوگا۔پھر وہ لڑکی حضرت جبرائیل ؑ سے کہنے لگی کہ تمہیں پتہ ہے کہ میں کس کی ہوں؟ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا کہ نہیں۔ لڑکی کہنے لگی کہ میں اور میرے جیسی بہت ساریاں اس کیلئے ہیں جو دنیا میں پاکباز اور نیک تھے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جنت میں ایک نہر ہے، بیدخ، اس نہر میں مشک، عنبر، کافور اور زعفران مل کر چلتے ہیں۔ وہ نہر موتیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ حور کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو تجلی پڑتی ہے اور ایک حور کامل مکمل لباس کے ساتھ باہر آ جاتی ہے۔ حور کا قد 130 فٹ ہوتا ہے۔ اللہ اسے 100 جوڑے کپڑے کے پہناتے ہیں اور ان سو جوڑوں میں بھی اس کا وجود شیشے کی طرح نظر آتا ہے۔


Top