عمران خان کی ایمانداری

" >

لاہور (ویب ڈیسک) چلیے مان لیتے ہیں کہ سابق حکمران چورتھے۔ انہوں نے لوگوں کا خیال نہ رکھا صرف اپنی تجوریاں بھریں۔ بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، اندرونِ ملک کئی محلات کھڑے کیے۔ جاتے جاتے آنے والوں کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر گئے۔جو کانٹے انہوں نے بچھائے تھے وہ موجودہ کو پلکوں سے چننے پڑ گئے ہیں۔

نامور کالم نگار اور سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا کو صرف یہ غم ہے کہ اب حلوے مانڈے نہیں مل رہے۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ موجودہ حکمران ایماندار ہیں (عمران خان کی ذات تک تو یہ درست بھی ہے) انہوں نے سرکاری خزانے سے ناجائز طور پر پھوٹی کوڑی تک بھی نہیں لی۔ مال حرام لینا تو در کُجا اس کی طرف دیکھنا بھی گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا اتنا کافی ہے؟ ہمیں اس موقع پر ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ ایک مجسٹریٹ کی سالانہ خفیہ رپورٹ میں کارکردگی کے بارے میں ڈپٹی کمشنر ملک کرم داد نے لکھا HE IS TOTALLY HONEST BUT ALAS! THAT IS ALL ایسی ایمانداری کیا کیا فائدہ ہے جو لوگوں کے کام نہ آ سکے۔ عوام کے مسائل حل نہ کر سکے۔ انکے مصائب میں کمی نہ لا سکے۔ اُنکی امیدوں ، امنگوں آرزئوں اور ارادوں کی ترجمان نہ ہو۔ اسی لیے کہا گیا ہے (INEFFICIENCY IS THE WORT FORM OF CORRUPTION) ایک شخص چاہے کتنا ہی ایماندار ، مخلص اور راست باز کیوں نہ ہو، جب تک وہ اپنے ماتحتوں پر کڑی نگاہ نہیں رکھتا۔ ان کی حرکات و سکنات کو عقابی نگاہ سے نہیں دیکھتا، جزا و سزا کے عمل کو بروئے کار نہیں لاتا، اس وقت تک ادارے کی کارکردگی محل نظر رہے گی اور تنقید کی زد میں آتی رہے گی۔ -2 عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ 22 کروڑ لوگوں کے ملک کا حاکم تو بن گیا ہے لیکن اپنی مرضی کی ٹیم منتخب نہیں کر سکتا۔ شاید ٹیم ممبران کو نکالنا بھی مشکل ہے۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسے سادہ اکثریت بھی نہیں ملی۔ کچھ ایسی پارٹیوں کو ساتھ ملانا پڑ گیا ہے جن کا ماضی مشکوک ہے۔ حال میں موقعہ پرستی کا عنصر غالب ہے۔ جب بھی خان پر اپوزیشن پارٹیوں کا دبائو بڑھتا ہے یہ اپنا نرخ بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا صرف ایک ہی مطعِ نظر رہا ہے۔ ’’نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز ‘‘

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں