ارے بھائی اوپر سے حکم لے آؤ

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک ویڈیو کلپ میں سنا کہ حاجی نواز کھوکھر پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہیں،اور تاجی کھوکھر کے قوت بازو کا لوہا ایک دنیا مانتی ہے۔ یہ دو افراد کی کی کہانی نہیں ایک خاندان کاشاہنامہ ہے

جس میں مصطفی نواز ایک نیا رنگ بھر سکتے ہیں۔اور اسے ایک نئے آہنگ کے ساتھ بڑھاوا دے سکتے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر اپنے والد کی سیاست اور حکمت کو مجھ سے زیادہ سمجھتا ہے اور اپنے باپ کے خون کا حصہ ہے،اور اس نے والد کی سانسوں کی مہک کومحسوس کیا ہے۔ میں نے تو حاجی صاحب کی شخصیت کا نظارہ دور ساحل سے بیٹھ کر کیا ہے، میرے نزدیک وہ بادشاہ بھی تھے اور بادشاہ گر بھی،ان کی فہم وفراست کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا،مگر جو طاقتیں ان کی اہلیت اور صلاحیت کو سمجھتی تھیں وہ انہیں کئی مہمات سر کرنے کا فریضہ سونپتی تھیں۔ حاجی نواز کبھی سامنے آکر اور کبھی پس منظر میں رہ کر وہ کارنامے سر انجام دیتے کہ لوگ ششدر رہ جاتے۔قومی زندگی کی انتہائی پیچیدہ گتھیوں کو چٹکی میں حل کردیتے،ریمنڈ ڈیوس کے سانحے نے ریاست پاکستان کو ہلاکر رکھ دیاتھا، اور اس پر ہاتھ ڈالنا کسی کے بس میں نہ تھا، قوم کے جذبات بپھرے ہوئے تھے، ا مریکی حکومت ہمارے حواس پر مسلط تھی، میرے گھر کے ڈرائنگ روم میں حاجی نواز کھوکھر نے مجھے بتایاکہ میں کروڑوں کی رقم ٰخصوصی طیارے میں لے کر آیا تھا اور ریمنڈ ڈیوس کے ظلم کا نشانہ بننے والوں کے ورثا میں تقسیم کی تھی، مجھے یہ سن کر کوئی اچنبھا نہ ہوا کیونکہ حاجی نواز کھوکھر اور ملک ریاض پاکستان کے اہم واقعات کے پیچھے پراسرار طورپر متحرک اور سرگرم عمل رہتے ہیں، مگر میں نے ہنس کر کہا کہ کیا آپ سے رقم لینے کے لیے کسی کو اپنے پیاروں سے محروم ہونا ضرور ی ہے، کیا آپ کسی ضرورت مند کو کروڑوں نہ سہی چند لاکھ بھی نہیں دے سکتے۔ حاجی صاحب نے بڑے کھردرے لہجے سے جواب دیا کہ ہم کسی کے حکم کے بغیر ایک پیسہ تک دینے کے روادار نہیں ہیں۔بس ہمارے لیے کوئی حکم لے آئے تو چاہے کروڑوں روپے لے جائے۔ میں نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کس کا حکم مانتے ہیں لیکن میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سب کچھ سمجھ گیا۔

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں