اپنے وطن کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا

" >

لزبن(ویب ڈیسک) افغانستان کی فٹبال کی خواتین فٹ بال ٹیم پرتگال پہنچ گئی ۔ خواتین کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ وطن چھوڑنے کا فیصلہ مشکل تھا لیکن خوابوں کی تکمیل کے لئے یہ کرنا پڑا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیم کی رکن 15 سالہ سارہ کا کہنا تھا کہ اپنا ملک اپنا شہر اپنے لوگ چھوڑنا تکلیف دہ تھا

لیکن اب وہ بحفاظت پرتگال میں پیشہ ورانہ بنیادوں پر فٹبال کھیلنے کا خواب پورا کرنے کے لیے پرامید ہیں ۔فٹبال کھلاڑی سارہ افغانستان کی یوتھ فٹبال ٹیم کے اسکواڈ کی ان کئی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو اگست میں تالبان کے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خوف سے اپنے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو گئیں۔خیال رہے کہ تالبان عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے برعکس خواتین کو کھیلوں میں شرکت کی اجازت دینے سے انکاری ہیں۔پرتگال نے اس مشکل وقت میں افغانستان کی ان نوجوان فٹبالرز کو پناہ دی ہے۔اپنی والدہ اور ٹیم کی دیگر کھلاڑیوں کی ہمراہ دریائے ٹیگس کا دورہ کرنے والی سارہ نے کہا کہ میں اب آزاد ہوں، میرا خواب ہے کہ میں رونالڈو جیسی اچھی کھلاڑی بن سکوں میں پرتگال میں ایک بڑی کاروباری خاتون بن کر رہنا چاہتی ہوں ۔سارہ نے ایک دن وطن واپسی کی امید ظاہر کی اور کہا کہ ایسا وہ اسی وقت کریں گے جب انہیں یقین ہو کہ وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں گی۔واضح رہے کہ تالبان رہنماؤں نے خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان کی پہلی حکومت کے دوران خواتین کام نہیں کر سکتی تھیں اور لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی تھی، گھروں سے نکلتے وقت عورتوں کو اپنا چہرہ ڈھانپنا پڑتا تھا اور ایک مرد رشتہ دار کا ساتھ لازمی تھا۔ایک سینئر تالبان عہدیدار نے 15 اگست کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاید خواتین کو کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے اور اس سے ان کی جسامت نمایاں ہو گی۔افغانستان کی سینئر قومی ٹیم کی کپتان فرخندہ محتاج نے کہا کہ ٹیم کو افغانستان سے نکال کر پرتگال لانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی پسند کا کھیل کھیلیں۔کینیڈا میں اپنے گھر سے ایک مقامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ فٹبال کوچ کے طور پر کام کرنے والی فرخندہ انخلا کے عمل کے دوران لڑکیوں سے ساتھ رابطے میں رہیں، وہ کُل 80 افراد کے انخلا میں کامیاب رہے جس میں خواتین یوتھ ٹیم اور ان کے اہلخانہ شامل ہیں۔افغان فٹبال ٹیم کی کھلاڑی لڑکیاں 19 ستمبر کو پرتگال پہنچی تھیں۔فرخندہ محتاج نے کہا کہ یہ لڑکیاں بہت سارے چیلنجز سے گزری ہیں لیکن اب اپنی برداشت اور تحمل کی وجہ سے وہ یہاں تک آنے میں کامیاب رہیں۔خواتین فٹبالر کی ایک رشتے دار 25 سالہ ذکی رسا نے کابل ہوائی اڈے پر افراتفری کو یاد کرتے ہوئے شکر ادا کیا کہ وہ اب پرتگال میں ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں کچھ بھی صورتحال غیریقینی ہے البتہ یہ ہے بات اہم ہے کہ ہم محفوظ ہیں ۔

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں