علی ظفر کی میشاء شفیع کو بڑی پیشکش!معاملے کا حل تجویز کر دیا

" >

لاہور( ویب ڈیسک) علی ظفر کے وکلا نے ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع اور ان کے شوہر کو پاکستان آنے کے لیے ٹکٹ کا خرچہ دینے کی پیشکش کردی۔

لاہور کی سیشن عدالت میں علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف سو کروڑ روپے ہتک عزت کے دعوی کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج خان محمود نے کیس پر سماعت کی۔

دوران سماعت علی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع اور ان کے شوہر کو پاکستان آنے کے لیے ٹکٹ کاخرچہ دینے کی آفر کردی۔ جب کہ میشا شفیع کے وکلا نے ویڈیو لنک سے جرح کی استدعا کی ہے۔

ہتک عزت کیس میں علی ظفر کے وکلاء نے میشا شفیع اور اس کے خاوند کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی استدعا کر رکھی ہے۔ میشا شفیع کے وکلا کا موقف تھا کہ میشا شفیع اور اس کا خاوند کینیڈا میں مقیم ہے لہذا میشا شفیع اور ان کے شوہر کے بیان پر جرح ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔ علی ظفر کے وکلا نے پیشکش کی کہ میشا شفیع اور اس کے خاوند کے ٹکٹ کا خرچہ ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ عدالت نے میشا شفیع اور اس کے شوہر کی طلبی سے متعلق فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے

سماعت کے دوران میشا شفیع کی گواہ ان کی والدہ صبا حمید جرح کے لیے عدالت پیش ہوئیں۔ میشا شفیع کی والدہ پر جرح شروع ہوئی تو وکیل علی ظفر نے پوچھا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ فہدالرحمن میشا شفیع کے مینجر تھے۔ صبا حمید نے جواب دیا کہ جی ہاں مجھے معلوم کہ وہ اس کے مینجر تھے۔ وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس مینجر نے بھی کہا کہ میشا بلیک میل کر رہی ہے کیا آپ نے اس مینجر کے خلاف کوئی قانونی اقدام کیا۔علی ظفر کے وکیل کے سوالات پر صبا حمید نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب آپ ایسے سوال کیوں پوچھ رہے ہیں۔ دوران سماعت صبا حمید نے ایک مرتبہ پھر کمرہ عدالت میں اونچا بولنا شروع کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آپ فریقین کمرہ عدالت کے تقدس کا خیال رکھیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کردی

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں