سپریم کورٹ برہم ،نسلہ ٹاؤر فوری گرانے کاحکم،حکام کی دوڑیں لگ گئیں

" >

کراچی (ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سارے شہر کی مشینری اور اسٹاف لیکر آؤ اور نسلہ ٹاور گرا دو۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کی۔

کمشنر کراچی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے تاحال عمارت نہ گرائے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ اب تک کتنی عمارت گرائی، بتائیں؟، عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں، آپ کو یہاں سے سیدھا جیل بھیجیں گے۔

کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ سر میں عمارت گرانے کی کوشش کررہا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کوشش کو چھوڑیں، یہاں سے سیدھا جیل جائیں۔

کمشنر کراچی کا چیف جسٹس سے کہنا تھا سر میں کچھ آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں، جس پر جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ہم سمجھ رہے ہیں لیکن آپ نہیں سمجھ رہے، صرف ٹائم پاس کررہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی سے متعلق استفسار کیا کہ یہ کس گریڈ کا افسر ہے جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ کمشنر کراچی گریڈ 21 کا افسر ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کیا گریڈ 21کے آفسر کا کورٹ میں بات کرنے کا یہ طریقہ ہوتا ہے، جاؤ اور سارے شہر کی مشینری اور اسٹاف لے کر نسلہ ٹاور گراؤ۔

چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تجوری ہائٹس کو بھی اب تک مسمار نہیں کیا گیا، جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ تجوری ہائٹس کو گرانے کا کام جاری ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا اگر آپریشن چل رہا ہے تو تصاویر کے ساتھ دوپہر تک رپورٹ پیش کریں۔

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں