جنرل فیض حمید،اور جج شوکت عزیز صدیقی کو کٹہرے میں لایا جائے،مریم نواز کا بڑا مطالبہ

" >

مسلم لیگ نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو پر اور نواز شریف کو نا اہل کرنے پر کھل کر بات کی
ان کا کہنا تھا،نواز شریف کے حق میں اب تک پانچ سے زائد گواہیاں آچکی ہیں سب سے پہلی گواہی ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ہے ، جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز اور موجودہ جج تھے ، انہوں نے سنگین الزامات لگائے ، انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز اور نوازشریف کی درخواست آئی تو جنر ل فیض گھر تشریف لائے اور کہاکہ ضمانت الیکشن سے پہلے نہیں دینی ہے ، ورنہ آپ بینچ میں نہ بیٹھیں ۔

مریم نواز کا کہناتھا کہ وہ جج آج بھی موجود ہیں،انصاف کے انتظار میں ریٹائر ہو گئے ہیں ، جنرل فیض اور شوکت صدیقی کو عدالت بلایا جائے اور قرآن پر حلف لیا جائ ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا

ارشد ملک جنہوں نے نوازشریف کو نیب کے مقدمے میں سزا دی تھی ، ان کی ویڈیو میں نے اس وقت ریلیز کی تھی ، پوری دنیا کے سامنے ، ارشد ملک کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا ، ان کو سزا دے دی گئی ، کھوسہ صاحب نے فرمایا کہ یہ جوڈیشری کے منہ پر کالا دھبہ ہے ، وہ کالا دھبہ انہیں نکال کر دھویا گیا ، کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھے اور نوازشریف کو انصاف دے ،

مریم نواز کا کہناتھا کہ گلگت بلتستان کے چیف جج کا ایک حلف نامہ سامنے آیا جس میں انہوں نے یہ بات کہی کہ جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو یہ خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے گلگت بلتستان آئے تھے ، چیف جج گلگت بلتستان کے گھر کے لان میں چائے پی رہے تھے جب ان کے سامنے ثاقب نثار نے فون کیا کہ مریم اور نوازشریف کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دینی ۔ آڈیو میں شکوک و شبہات کر سکتے ہیں لیکن شوکت عزیز تو حیات ہیں ، ان کو بلائیں ، پوچھیں، چیف جج گلگت بلتستان کو بلائیں اور ان سے پوچھیں ، انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ۔

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں