بلدیاتی ملازمین کی ہڑتال سے روشنیوں کا شہر کچرا کنڈی میں تبدیل،ملازمین کے مطالبات کیا ہیں؟؟؟

" >

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی سمیت سندھ بھر کے بلدیاتی ملازمین نے محکمہ خزانہ سے براہ راست تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے اورغیر معینہ مدت تک کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی۔ جس سے شہر قائد کا برا حال ہے،او صفائی کا نظام مفلوج ہو کر رہا گیا ہے

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، سات اضلاع اور ایک ضلع کاؤنسل میں دفاتر کی تالہ بندی کی گئی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ہر ماہ پینتیس فیصد تنخواہوں سے محروم ہورہے ہیں، وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی ہدایت کے باوجود صوبائی محکمہ خزانہ سے تنخواہ دینے میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔

کراچی پریس کلب میں گفتگو کے دوران آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن کے رہنما سید ذوالفقار شاہ نے کہا کہ دیگر اداروں کی طرح ہماری تنخواہوں کو بھی آن لائن اکاؤنٹس میں بھیجے اور کٹوتی کو ختم کیا جائے،مزید براں مطالبات منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گریڈ ایک تا سولہ کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث کچرا اٹھانے سمیت سیوریج کا نظام مکمل طور پر بیٹھ جائے گا، صرف کراچی میں یومیہ بارہ ہزار ٹن سے زائد کچرا اٹھایا جاتا ہے، جو اب ہڑتال ختم ہونے تک نہیں اٹھایا جائے گا۔

?>

اپنا تبصرہ بھیجیں